ترجمۂ کنز الایمان: اے ایمان والو! اللہ کا احسان اپنے اوپر یاد کرو، جب تم پر کچھ لشکر آئے تو ہم نے ان پر آندھی اور وہ لشکر بھیجے جو تمہیں نظر نہ آئے، اور اللہ تمہارے کام دیکھتا ہے۔
غزوۂ احزاب کا مختصر بیان:
غزوۂ احزاب کا مختصر بیان یہ ہے کہ یہ غزوہ سن 4 یا 5 ہجری، شوال کے مہینے میں پیش آیا۔ اس کا سبب یہ ہوا کہ جب بنی نضیر کے یہودیوں کو جلاوطن کیا گیا تو ان کے سربراہ مکہ مکرمہ میں قریش کے پاس پہنچے اور انہیں سرکارِ دو عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ جنگ کرنے کی ترغیب دلائی اور وعدہ کیا کہ ہم تمہارا ساتھ دیں گے، یہاں تک کہ مسلمان نیست و نابود ہو جائیں۔
ابوسفیان نے اس تحریک کی بہت قدر کی اور کہا کہ ہمیں دنیا میں وہ سب سے پیارا ہے جو محمد مصطفیٰ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی دشمنی میں ہمارا ساتھ دے۔
پھر قریش نے ان یہودیوں سے کہا کہ تم پہلی کتاب والے ہو، ہمیں بتاؤ کہ ہم حق پر ہیں یا محمد مصطفیٰ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم؟ یہودیوں نے کہا: تم ہی حق پر ہو۔
اس پر کفارِ قریش خوش ہوئے، اور اسی واقعے سے متعلق سورۂ نساء کی آیت نمبر 51: نازل ہوئی
أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ أُوتُوا نَصِيبًا مِّنَ الْكِتَابِ يُؤْمِنُونَ بِالْجِبْتِ وَالطَّاغُوتِ
پھر وہ یہودی دیگر قبائل غطفان، قیس اور غیلان وغیرہ میں گئے، وہاں بھی یہی تحریک چلائی تو وہ سب بھی ان کے موافق ہو گئے۔ اس طرح ان یہودیوں نے جا بجا دورے کیے اور عرب کے قبیلہ قبیلہ کو مسلمانوں کے خلاف تیار کر لیا۔
جب سب لوگ تیار ہو گئے تو قبیلۂ خزاعہ کے چند لوگوں نے نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو کفار کی اس زبردست تیاری کی اطلاع دی۔ یہ اطلاع پاتے ہی حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت سلمان فارسی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے مشورے سے خندق کھدوانی شروع کر دی۔ اس خندق میں مسلمانوں کے ساتھ رسولِ کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے خود بھی کام کیا۔ مسلمان خندق تیار کرکے فارغ ہوئے ہی تھے کہ مشرکین بارہ ہزار افراد کا بڑا لشکر لے کر ان پر ٹوٹ پڑے اور مدینہ طیبہ کا محاصرہ کر لیا۔ خندق مسلمانوں اور ان کے درمیان حائل تھی، اور اسے دیکھ کر سب کفار حیران ہوئے اور کہنے لگے کہ یہ ایسی تدبیر ہے جس سے عرب لوگ اب تک واقف نہ تھے۔ اب انہوں نے مسلمانوں پر تیراندازی شروع کر دی۔
جب اس محاصرے کو 15 یا 24 دن گزرے تو مسلمانوں پر خوف غالب ہوا اور وہ بہت گھبرائے اور پریشان ہوئے، تو اللہ تعالیٰ نے ان کی مدد فرمائی اور کافروں پر تیز ہوا بھیجی۔ انتہائی سرد اور اندھیری رات میں اُس ہوا نے کافروں کے خیمے گرا دیے، طنابیں توڑ دیں، کھونٹے اکھاڑ دیے، ہانڈیاں الٹ دیں اور آدمی زمین پر گرنے لگے۔ اللہ تعالیٰ نے فرشتے بھیج دیے، جنہوں نے کفار کو لرزا دیا اور اُن کے دلوں میں دہشت ڈال دی، مگر اس جنگ میں فرشتوں نے لڑائی نہیں کی۔
ذیقعدہ 5ھ (مارچ 627ء) میں مشرکینِ مکہ نے مسلمانوں سے جنگ کی ٹھانی۔ ابوسفیان نے قریش اور دیگر قبائل، حتیٰ کہ یہودیوں سے بھی لوگوں کو جنگ پر راضی کیا اور اس سلسلے میں کئی معاہدے کیے اور ایک بہت بڑی فوج اکٹھی کر لی، مگر مسلمانوں نے حضرت سلمان فارسی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے مشورے سے مدینہ کے اردگرد ایک خندق کھود لی۔ مشرکینِ مکہ ان کا کچھ نہ بگاڑ سکے۔ خندق کھودنے کی عرب میں یہ پہلی مثال تھی، کیونکہ اصل میں یہ ایرانیوں کا طریقہ تھا۔ ایک ماہ کے محاصرے اور اپنے بے شمار افراد کے قتل کے بعد مشرکین مایوس ہو کر واپس چلے گئے۔ اسے غزوۂ خندق یا جنگِ احزاب کہا جاتا ہے۔ احزاب کا نام اس لیے دیا جاتا ہے کہ اصل میں یہ کئی قبائل کا مجموعہ تھا، جیسے آج کل امریکا، برطانیہ وغیرہ کی اتحادی افواج (نیٹو) کہلاتی ہیں۔ اس جنگ کا ذکر قرآنِ کریم میں سورۂ احزاب میں ہے۔
پس منظر:
جنگِ اُحد کے بعد قریش، یہودی اور عرب کے دیگر بت پرست قبائل کے درمیان طے پایا کہ مل جل کر اسلام کو ختم کیا جائے۔ اس سلسلے میں پہلا معاہدہ قریش کے سردار ابوسفیان اور مدینہ سے نکالے جانے والے یہودی قبیلے بنی نضیر کے درمیان ہوا۔ اس کے بعد بنی نضیر کے نمائندے نجد روانہ ہوئے اور وہاں کے مشرک قبائل غطفان اور بنی سلیم کو ایک سال تک خیبر کا محصول دے کر مسلمانوں کے خلاف جنگ پر آمادہ کیا۔ اسلام کے خلاف اس اتحاد کو قرآن نے احزاب کا نام دیا ہے۔ ان میں ابوسفیان کی قیادت میں 4000 پیدل فوجی، 300 گھڑسوار اور 1500 کے قریب شتر سوار (اونٹوں پر سوار) شامل تھے۔ دوسری بڑی طاقت قبیلۂ غطفان کی تھی، جس کے 1000 سوار عُیَینہ کی قیادت میں تھے۔ اس کے علاوہ بنی مرہ کے 400، بنی شجاع کے 700 اور کچھ دیگر قبائل کے افراد شامل تھے۔ مجموعی طور پر تعداد دس ہزار سے تجاوز کر گئی، جو اس زمانے میں اس علاقے کے لحاظ سے ایک انتہائی بڑی فوجی طاقت تھی۔ یہ فوج تیار ہو کر ابوسفیان کی قیادت میں فروری یا مارچ 627ء میں مسلمانوں سے جنگ کرنے کے لیے مدینہ روانہ ہو گئی۔
حضرت محمد صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو اس سازش کا علم ہوا تو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے صحابۂ کرام سے مشورہ فرمایا۔ حضرت سلمان فارسی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک دفاعی خندق کھودنے کا مشورہ دیا، جو عربوں کے لیے ایک نئی بات تھی۔ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو یہ مشورہ پسند آیا، چنانچہ خندق کی تعمیر شروع ہو گئی۔
مدینہ کے اردگرد پہاڑ تھے اور گھر ایک دوسرے سے متصل تھے، جو ایک قدرتی دفاعی فصیل کا کام کرتے تھے۔ ایک جگہ کوہِ عیدہ اور کوہِ راتج کے درمیان سے حملہ ہو سکتا تھا، اس لیے وہاں خندق کھودنے کا فیصلہ کیا گیا۔ اس کی کھدائی میں حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سمیت سب لوگ شریک ہوئے۔ اس دوران سلمان فارسی رضی اللہ تعالی عنہ نہایت جوش و خروش سے کام کرتے رہے اور اس وجہ سے انصار کہنے لگے کہ سلمان ہم میں سے ہیں اور مہاجرین کہنے لگے کہ سلمان ہم میں سے ہیں اس پر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ سلمان میرے اہل بیت سے ہیں ۔ کھدائی کے دوران حضرت سلمان فارسی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے سامنے ایک بڑا سفید پتھر آ گیا، جو ان سے اور دوسرے ساتھیوں سے نہ ٹوٹا۔ آخر حضرت محمد صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم خود تشریف لائے اور کلہاڑی کی ضرب لگائی۔ ایک بجلی سی چمکی اور پتھر کا ایک ٹکڑا ٹوٹ کر الگ ہو گیا۔ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے تکبیر بلند کی۔ دوسری اور تیسری ضرب پر بھی ایسا ہی ہوا۔
حضرت سلمان فارسی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے سوال کیا کہ ہر دفعہ بجلی سی چمکنے کے بعد آپ تکبیر کیوں بلند کرتے ہیں؟ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے جواب دیا کہ جب پہلی دفعہ بجلی چمکی تو میں نے یمن اور صنعاء کے محلوں کو کھلتے دیکھا۔ دوسری مرتبہ چمکنے پر میں نے شام و مغرب کے خحاءے محلات کو فتح ہوتے دیکھا، اور جب تیسری بار بجلی چمکی تو میں نے دیکھا کہ ایوانِ کسریٰ میری امت کے ہاتھوں سے مسخر ہو جائیں گے۔ 20 دن میں خندق مکمل ہو گئی، جو تقریباً پانچ کلومیٹر لمبی تھی، پانچ ہاتھ (تقریباً سوا دو سے ڈھائی میٹر) گہری تھی اور اتنی چوڑی تھی کہ ایک گھڑسوار جست لگا کر بھی اسے پار نہ کر سکتا تھا۔ مسلمانوں کی تعداد تین ہزار کے قریب تھی، جو پندرہ سال سے بڑے تھے اور جنگ میں حصہ لے سکتے تھے۔
بنو قریظہ کی بدعہدی:
میثاقِ مدینہ کی رو سے یہود اس بات کے پابند تھے کہ مدینہ پر حملے کی صورت میں مسلمانوں کے ساتھ مل کر کام کریں گے۔ شروع شروع میں تو انہوں نے کچھ تعاون کیا، لیکن جب تحویلِ قبلہ ہوئی تو وہ بھی غداری کرنے لگے۔ اس پر حضور پاک صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے تقریباً دو سو آدمیوں کا ایک دستہ ان کے مقابلے کے لیے مخصوص کر لیا، تاکہ بوقتِ ضرورت ان اندرونی دشمنوں سے نمٹا جا سکے۔
یہودی قبیلہ بنو قریظہ نے جب دیکھا کہ مسلمانوں سے مقابلہ آسان نہیں ہے تو ایک دن وہ ان قلعوں کی طرف گئے جہاں مسلمان عورتیں اور بچے تھے، تاکہ وہ جائزہ لے سکیں کہ ان پر کیسے حملہ کیا جا سکتا ہے۔ ایک یہودی حالات کا جائزہ لینے کے لیے قلعے میں اترا۔ اتفاق سے حضور پاک صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی پھوپھی حضرت صفیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے اسے دیکھ لیا۔ وہ لکڑی کا ایک بڑا لٹھ لے کر آئیں اور اس کے سر پر دے مارا، جس سے وہ وہیں مر گیا۔ پھر آپ نے اس کا سر کاٹ کر باہر پھینک دیا، جس سے یہودی خوف زدہ ہو گئے کہ شاید یہاں بھی کچھ فوج موجود ہے۔ اس طرح وہ حملہ کرنے سے باز رہے۔
احزاب میں پھوٹ:
جب محاصرہ طول پکڑ گیا تو بنو قریظہ، قریش، غطفان اور دوسرے قبائل میں اختلافات نمودار ہونا شروع ہو گئے اور بددلی پھیل گئی۔ ایک دوسرے کے بارے میں بدگمانی پیدا ہو گئی اور ایسے لوگ سامنے آنے لگے جو جنگ جاری رکھنے کے حامی نہیں تھے۔ ان اختلافات نے انہیں آپس ہی میں مصروف رکھا، یہاں تک کہ خدائی مدد آ گئی۔
خدائی مدد:
ایک رات شدید اور سرد آندھی چلی، جس نے مشرکین کے خیموں کو اکھاڑ پھینکا اور ان کی روشنیاں بجھا دیں۔ شدید گرد و غبار سے فضا تاریک ہو گئی۔ مشرکین نے فرار ہونے کو ترجیح دی اور مکہ کی طرف روانہ ہو گئے۔ 22 ذی القعدہ، بدھ کے دن تک لشکرِ کفار میں سے کوئی بھی باقی نہ رہا، اور شدید مالی و جانی نقصان کے بعد ان کے ہاتھ کچھ نہ آیا۔ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے اجازت دے دی کہ مسلمان محاذ کو چھوڑ کر اپنے گھروں کو چلے جائیں۔
ایک نئی حکمتِ عملی:
دشمن سے جان چھڑانے کی ایک صورت یہ بھی تھی کہ اس کے مختلف گروہوں کو آپس میں بدگمان کر دیا جائے، چنانچہ اس حکمتِ عملی پر عمل کیا گیا۔
نعیم بن مسعود قبیلۂ غطفان کے سردار تھے اور اسلام قبول کر چکے تھے، لیکن اس بات کا کسی کو علم نہیں تھا۔ انہوں نے بنو قریظہ سے کہا کہ قریش کی فتح یقینی نہیں ہے۔ اگر تم نے ان کا ساتھ دیا اور اسی دوران وہ محاصرہ اٹھا کر چلے گئے تو تم تنہا مسلمانوں کا مقابلہ نہ کر سکو گے، اس لیے ضمانت کے طور پر ان کے کچھ آدمیوں کو طلب کر لو۔
دوسری طرف قریش تک یہ بات پہنچائی کہ بنو قریظہ مسلمانوں سے ملے ہوئے ہیں اور کسی بہانے تمہارے سرداروں کو بلا کر مسلمانوں کے حوالے کرنا چاہتے ہیں۔ اب بنو قریظہ نے جب کچھ سردار بطورِ ضمانت طلب کیے تو انہیں نعیم بن مسعود کی بات سچ لگی۔ اس طرح بے اعتمادی کی فضا پھیل گئی۔
اسی طرح ان دنوں بہت زور کی آندھی آئی۔ سردی کی شدت میں اضافہ ہوا اور بنو غطفان اپنے گھروں کو چلے گئے۔ قریش کے پاس سامانِ رسد کم ہو رہا تھا۔ ان میں مختلف قبیلوں کے لوگ تھے، جن کی آپس میں دشمنی تھی۔ محاصرے کی طوالت سے وہ پھر سر اٹھا رہی تھی۔ فتح کے امکانات بہت کم تھے، اس لیے ایک مہینے کے بعد بددل ہو کر قریش واپس مکہ چلے گئے۔
اس جنگ میں مسلمانوں نے سامانِ جنگ اور خوراک کی کمی کے باوجود بہت ثابت قدمی کا مظاہرہ کیا، جس کے مقابلے میں دشمن کی فوج میں آپس میں پھوٹ پڑ گئی۔ اوپر سے سامانِ رسد بھی کم ہونے لگا اور سردی
مسلمانوں میں حیرت انگیز اضافہ ہو گیا۔ اس کے علاوہ قریش کے مقدس مہینے ذی القعدہ کی آمد تھی۔ شوال ختم ہو رہا تھا، اور اس مہینے میں وہ لڑائی نہیں کرتے تھے۔ ان سب وجوہات کی بنا پر قریش ناکام واپس چلے گئے۔
جنگِ خندق کے نتائج:
یہ لڑائی بالکل فیصلہ کن ثابت ہوئی۔ کفار کے مختلف گروہ مل کر بھی مسلمانوں کو نقصان نہ پہنچا سکے۔ اب مسلمانوں کو بھی یقین ہو گیا کہ عرب کی کوئی طاقت انہیں ختم نہیں کر سکتی۔
اب قریش کی جانب سے حملے کا خطرہ ٹل گیا اور مدینہ ان کی طرف سے محفوظ ہو گیا۔ عرب کے قبائل پر مسلمانوں کا رعب چھا گیا۔ ان میں سے جو محض قریش کی وجہ سے مسلمانوں کے قریب نہیں آتے تھے، اب آ گئے، اور بہت سوں نے اسلام قبول کر لیا، جن میں یمامہ کا سردار بھی شامل تھا۔
قریش کی تجارت شام اور عراق کے بعد یہیں سے بھی ہوتی تھی۔ اب وہ معاشی اعتبار سے بالکل تباہ ہو کر مسلمانوں کے رحم و کرم پر تھے۔
اس جنگ میں بدعہدی کے نتیجے میں یہود کے قبیلہ بنو قریظہ سے مسلمانوں کی لڑائی ہوئی اور ان کا خاتمہ ہو گیا۔ یہود کے دو قبیلے پہلے ہی جلاوطن کر دیے گئے تھے، اس طرح پورا مدینہ یہود سے پاک ہو گیا۔
فرمانِ مبارک حضور سیدنا امیر المجاہدین علامہ خادم حسین رضوی نور اللہ مرقدہ
سب سے بڑا فرض ناموسِ رسالت ﷺ ہے۔ اگر حضور نبیِ کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم ایک سال تک بھی تشریف نہ لاتے، تو تب بھی حضرت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کعبہ کا طواف نہیں کرنا تھا۔
تبصرے 0